اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس نے پروگرام گوئنگ انڈرگراؤنڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے دوسرے ممالک کے رہنماؤں کو قتل کرنے کی امریکی اور اسرائیلی پالیسی پر تنقید کی۔
انہوں نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور تنازع کے پہلے ہی روز اعلیٰ ایرانی حکام کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ حملے کے روز ایرانی رہنما مذاکرات کے اگلے دور پر تبادلۂ خیال کے لیے جمع ہوئے تھے، کیونکہ مذاکراتی عمل جاری رہنے کی توقع تھی۔
ساکس کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا طریقۂ کار یہ ہے کہ مخالف فریق کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے اور پھر، جب وہ رہنما ایک جگہ جمع ہوں، تو انہیں قتل کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہی حکمت عملی اختیار کی گئی۔
امریکی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ ایرانی رہنما اس بات پر گفتگو کر رہے تھے کہ آئندہ مذاکرات میں کیا مؤقف اختیار کیا جائے۔ یہ مذاکرات اگلے ہفتے ویانا میں ہونے والے تھے۔ ان کے مطابق، عمانی ثالث نے مذاکرات میں پیش رفت کا ذکر کیا تھا، جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موساد نے اسے ایرانی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا موقع سمجھا۔
ایرانی تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے ساکس نے کہا کہ ایرانی عوام نہایت مہذب اور شریف ہیں اور وہ ڈھائی ہزار سالہ تہذیب کی عزت و وقار کے وارث ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایرانی مذاکرات کار باوقار، ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہیں، لیکن امریکا اور اسرائیل انہیں صرف قتل کے اہداف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ساکس کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مذاکرات کے دوران حملوں پر مختلف سیاست دانوں اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ